Test A1
انسان کی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ وہ مستقبل کے حوالے سے فکر مند رہتا ہے اور اس بات کو مدِ نظر رکھ کر وہ مختلف چیزیں جمع کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے۔شاہراہِ زندگی پر سفر کرتے ہوئے اگرچہ اسے نشیب وفراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے وہ ان چیزوں کی پرواہ کئے بغیر اپنا سفر جاری و ساری رکھتا ہے۔مستقبل کا خوف اسے چین سے سونے نہیں دیتا اور حالات پر کڑی نظر رکھ کر وہ وقت سے فائدہ اٹھا کر اپنی ضروریاتِ زندگی جمع کرنے میں ہی اپنی نجات سمجھتا ہے۔مستقبل کے حوالے سے متفکر رہنا انسان ہی میں نہیں بلکہ یہ ہمیں چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے،جن میں سرفہرست ”چیونٹی“ ہے۔چیونٹی ایک عام معاشرتی مکوڑا ہے،جو تقریباً دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔یہ حشرات الارض کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے،چیونٹیوں کا شمار دنیا کے مشقت کرنے والے مخلوقات میں ہوتا ہے۔مستقبل کے حوالے سے ان کی مشقت اور ان کا متفکر رہنا ہر ایک انسان کے مشاہدے میں ہے۔حیرانی کی بات ہے کہ یہ ایک چھوٹی سی مخلوق موسمِ سرما کو ذہن میں رکھتے ہوئے موسمِ بہار سے ہی رزق جمع کرنے میں لگ جاتی ہے،کیونکہ اسے پہلے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ آئیندہ موسمِ سرما میں میرے لیے اپنے بل سے سر نکالنا بھی مشکل ہوگا۔لہٰذا وہ موسمِ سرما کو اپنے لئے عظیم فتنہ سمجھ کر اولین فہرست میں ہی کام میں لگ جاتی ہے اور اس کام کو وہ بڑی جانفشانی کے ساتھ سرِ انجام دیتی ہے۔”صحیح کام صحیح وقت پر“ کے اصول کو عملی جامہ پہنا کر وہ مستقبل میں نہ فقروفاقہ کا شکار ہوجاتی ہے اور نہ ہی اپنے آنسو بہا کر اپنے غم کا اظہار کرتی ہے بلکہ وہ وقت پر مطمئن اور شاداں و فرحاں نظر آنے لگتی ہے۔وہ اُس وقت یہ مصرعہ سنا کر اپنی اندرونی کیفیت کا اظہار کرتی ہےکہ”شادم از زندگئ خویش کہ کارے کردم“یعنی میں اپنی زندگی سے خوش ہوں کہ میں نے بہت بڑا
Post a Comment